Posts

Showing posts from June, 2024

How was the universe created?

Image
Science and knowledge Dr. Sohail Zuberi Thanks to all of us. When the universe began, there was neither space nor time. Free from space and time. It is impossible to imagine that the vast universe that we see around us, with trillions of galaxies and billions of stars in each galaxy, was focused on a single point. And then the universe began with a big bang. Contrary to the name, the Big Bang does not mean that the universe began with a loud explosion. The term implies that the universe began to expand very rapidly and is still expanding. How was the universe created? Why was it born? What were the motivations behind its inception? It is still a mystery. The first second of the universe is the most important in the life of the universe. What happened in those early moments essentially determined what kind of universe it would be and what the laws of nature would be by which this universe and all the matter and energy in it would continue to travel. will Here we first present the evolut...

Importance of Carbon dioxide

Image
Science and knowledge Carbon Dioxide: The Essential Gas Carbon dioxide (CO2) is a colorless, odorless gas that is essential for life on Earth. It is a vital component of the Earth's carbon cycle and plays a crucial role in many biological and geological processes. Sources of Carbon Dioxide: - Respiration: Humans and animals release CO2 through breathing - Photosynthesis: Plants absorb CO2 and release oxygen - Fossil Fuels: Burning coal, oil, and gas releases CO2 - Volcanic Activity: Volcanoes emit CO2 Effects of Carbon Dioxide: - Greenhouse Gas: CO2 traps heat, contributing to global warming - Ocean Acidification: CO2 dissolves in water, affecting marine life - Plant Growth: CO2 is essential for plant photosynthesis Human Impact: - Burning fossil fuels increases CO2 levels - Deforestation reduces CO2 absorption - Climate Change: Excessive CO2 emissions contribute to global warming In conclusion, carbon dioxide is a vital gas that plays a delicate role in the Earth's ecosyst...

water problems

Image
Science and knowledge آخر کار قدرت نے فیصلہ کر دیا 😔   جنوبی افریقہ کے دارالحکومت کیپ ٹاؤن کو دنیا کا پہلا خشک سالی زدہ شہر قرار دے دیا گیا!  زیر زمین پانی بھی ختم ہو گیا ان کی حکومت نے 14 اپریل 2023 کے بعد پانی فراہم کرنے میں ناکامی کا اعلان کر دیا ہے۔ دنیا کا المناک سفر شروع ہو چکا ہے!   ایسا وقت ہم پر بھی آسکتا ہے!   پانی کا استعمال کفایت سے کریں۔   پانی کا ضیاع بند کریں۔    اس حقیقت کو مت بھولیں کہ دنیا کا صرف 2.7% پانی پینے کے قابل ہے!  اپنے علاقے میں لوگوں کو آگاہ کریں!   تمام قریبی ڈیم کم پڑ چکے ہیں اور زیر زمین پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے۔      - روزانہ کار، صحن اور گھر کے باہر والے حصے دھونے سے بچیں؛    کپڑوں کے دھلائی کے دوران پانی کے نل کو مسلسل چلانا بند کریں۔         گھر میں لیک ہونے والے نل اور فلش ٹنکیوں کی مرمت کروائیں   درخت لگائیں! ماحول کی حفاظت کریں   آئیے مل کر اس خوفناک آنے والے بحران کا مقابلہ کریں!   مندرجہ بالا پیغام 5...

What is global warming?

Image
Science and knowledge گلوبل وارمنگ یا گلوبل ٹھنڈ؟ دنیا میں سردی کاموسم بہت شدید ہو رہا ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ گلوبل وارمنگ ہو رہی ہے. یہ بظاہر ایک عجیب بات ہے. پاکستان کے میدانی علاقوں کے درجہ حرارت بھی پہاڑی علاقوں کے درجہ حرارت کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں. لیکن یہ یاد دہانی بھی بہت ضروری ہے کہ زمین کے جنوبی نصف کرہ میں اس وقت گرمی پڑ رہی ہے.  کچھ لوگوں کا یہ خیال ہو گا کہ میرے علاقے میں تو بہت ٹھنڈ پڑ رہی ہے اس لیے گلوبل وارمنگ ایک من گھڑت افسانہ ہے. پہلی بات یہ ہے کہ موسم weather اور کلائمیٹ climate میں بہت فرق ہے. موسم آپ کو آج, کل یا کچھ دنوں کے احوال کا پتہ دیتا ہے لیکن کلائمیٹ کئی سالوں پہ مشتمل موسم کے احوال کا مطالعہ ہے. عام طور پر کلائمیٹ کا مطالعہ گزشتہ 30 سالوں پر محیط ہوتا ہے. سردی میں بہت شدید سردی پڑنے کی دو ممکنہ وجوہات ہیں ایک گلوبل وارمنگ اور دوسرا قطبی بگولہ polar vortex ہیں.  اس کے پیچھے کونسی سائنس چھپی ہے اور گلوبل وارمنگ کس طرح آج کے ریکارڈ ساز کم درجہ حرارت کی ذمہ دار ہے؟ یہ ایک کھلا تضاد ہے اور ہم اسی تضاد کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں. زمین ای...

ANTARCTICA

Image
Science and knowledge اپنی دنیا کو جانیں _____انٹارکٹیکا (ANTARCTICA)_____ انٹارکٹیکا دنیا کا سرد ترین، بلند ترین اور انسانی آبادی کے لحاظ سے ویران ترین براعظم ہے جو دنیا کی تیز ترین ہواؤں کا مسکن ہے. اس کا رقبہ ایک کروڑ چالیس لاکھ مربع کلومیٹر ہے.اس کی زمین کا اٹھانوے فیصد حصہ کئی کلومیٹر موٹی برف کی تہ سے ڈھکا ہوا ہے. یہ یورپ سے پچیس فیصد بڑا ہے اس کے باوجود اسے انیسویں صدی میں دریافت کیا گیا. اس کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی خاطر کئی انسانی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جا چکا ہے. اس برف کے صحرا میں ایسے ایسے عجوبے موجود ہیں جو دیکھے جانے کے قابل ہیں. یہاں ایسی وادیاں ہیں جو مریخ کی سر زمین سے مشابہت رکھتی ہیں. ناسا کے سائنسدان اپنے سائنسی آلات کو وہاں آزماتے ہیں. برف کی موٹی تہ کے نیچھے چھپی ہوئی جھیلیں ہیں جو مستقل طور پر روشنی سے محروم ہیں وہاں بیکٹیریا کی صورت میں زندگی کا ہونا بھی عجوبے سے کم نہیں ہے. انٹارکٹیکا کو بحرِجنوبی نامی سمندر نے گھیرا ہوا ہے جس میں پائی جانے والی مچھلیوں کے خون میں ایسا مادہ (antifreeze)پایا جاتا ہے جو انھیں یخ بستہ پانیوں میں بھی جمنے سے محفوظ رکھتا ہے...

Black Hole

Image
Science and knowledge *تعارف* بلیک ہول خلا میں ایک ایسا خطہ ہے جہاں کشش ثقل اتنا مضبوط ہے کہ روشنی سمیت کوئی بھی چیز باہر نہیں نکل سکتی۔ یہ اس وقت بنتا ہے جب ایک بہت بڑا ستارہ اپنے آپ پر گرتا ہے اور اس کی کشش ثقل اتنی مضبوط ہو جاتی ہے کہ یہ اس کے ارد گرد خلائی وقت کے تانے بانے کو توڑ دیتا ہے۔ *بلیک ہولز کی تاریخ* ایک جسم کا تصور اتنا بڑا کہ روشنی بھی نہیں بچ سکتی پہلی بار 1783 میں جان مشیل نے پیش کی تھی۔ تاہم، یہ 20 ویں صدی کے اوائل تک نہیں تھا کہ کارل شوارزچلڈ، ڈیوڈ فنکلسٹین، اور راجر پینروز جیسے جدید فلکی طبیعیات دانوں نے نظریہ تیار کیا۔ بلیک ہولز مزید *بلیک ہولز کی خصوصیات* بلیک ہولز کی تین خصوصیات ہیں: - *ماس*: بلیک ہولز کی کمیت کی کوئی بھی مثبت قدر ہو سکتی ہے۔ - *الیکٹرک چارج*: بلیک ہولز میں برقی چارج ہوسکتا ہے، لیکن یہ عام طور پر غیر جانبدار ہوتا ہے۔ - *Angular Momentum*: بلیک ہولز گھوم سکتے ہیں، اور ان کی گردش ایک عالمگیر خصوصیت کی توقع کی جاتی ہے۔ *بلیک ہولز کی اقسام* بلیک ہولز کو ان کے بڑے پیمانے پر درجہ بندی کیا جاتا ہے: - *سپر میسیو بلیک ہولز*: کہکشاؤں کے مراکز میں پائے جا...

Role of Nitrogen

Image
Science and knowledge یہاں نائٹروجن کی اہمیت پر ایک مضمون ہے ¹²: نائٹروجن زندگی کے لیے ایک ضروری عنصر ہے، اور اس کی اہمیت کو زیادہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ پودوں کے لیے ایک اہم غذائیت کا عنصر ہے، اور یہ امینو ایسڈ، کلوروفل، توانائی کی منتقلی کے مرکبات، اور نیوکلک ایسڈز کا ایک اہم جز ہے۔ نائٹروجن کے اہم ہونے کی کچھ وجوہات یہ ہیں: - کلوروفل کی ترکیب میں پودوں کی مدد کرتا ہے۔ - ناکارہ نائٹروجن گیس کو پودوں کے لیے قابل استعمال شکل میں تبدیل کرتا ہے۔ - جانوروں اور پودوں کے مادے کو گلا دیتا ہے، اس عمل میں ماحول کو صاف کرتا ہے۔ - نائٹریٹ اور نائٹریٹ کے ساتھ مٹی کو افزودہ کرتا ہے۔ - اہم مرکبات اور حیاتیاتی مالیکیول تشکیل دیتے ہیں۔ - انسانی سرگرمیوں جیسے ایندھن کے دہن اور نائٹروجن کھادوں کا استعمال نائٹروجن فضا میں وافر مقدار میں موجود ہے، لیکن یہ پودوں یا جانوروں کے لیے ناقابل استعمال ہے جب تک کہ اسے نائٹروجن مرکبات میں تبدیل نہ کیا جائے۔ نائٹروجن فکسنگ بیکٹیریا ماحولیاتی نائٹروجن کو نائٹروجن مرکبات میں فکس کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں جو پودوں کے ذریعہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پودے زمین...

Importance of oxygen

Image
اگر زمین سے پانچ سیکنڈز کیلئے۔۔۔۔! جی ہاں محض پانچ سیکنڈز کیلئے آکسیجن غائب ہوجائے تو کیا ہوگا۔۔۔؟ انسان ایک منٹ کے لئے تو سانس روک ہی سکتا ہے، لیکن یہاں بات صرف ایک انسان کی نہیں ہو رہی، پوری زمین کی ہو رہی ہے۔ پوری زمین سے محض پانچ سیکنڈز کیلئے آکسیجن غائب ہو جائے تو۔۔۔۔! 1۔ ساحل سمندر پر لیٹے لوگوں کی جلد فوراً جھلسنا شروع ہو جائے گی، کیونکہ ہوا میں موجود مالیکیولر آکسیجن ہی ہمیں الٹرا وائلٹ روشنی سے بچاتی ہے۔ 2۔ دن کے وقت آسمان کالا سیاہ ہو جائے گا، اندھیرا ہو جائے گا، کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ 3۔ دھات سے بنی ہوئی وہ تمام چیزیں جو الگ الگ ہیں، فوراً سے پہلے ایک دوسرے سے جڑنا شروع ہو جائینگی۔ کیونکہ ہوا میں موجود آکسیڈیشن کی تہہ ہی انہیں آپس میں جڑنے سے روکتی ہے۔ 4۔ زمین کا پینتالیس فیصد حصہ آکسیجن سے بنا ہوا ہے، جیسے ہی آکسیجن غائب ہوگی، ساری زمین کھردری اور اُتھل پُتھل ہو جائے گی۔ اور اس پر چلنا اور قدم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ 5۔ ہم ہوا کا اکیس فیصد دباؤ کھو دینگے، لہٰذا جس طرح جہاز کے اُڑتے ہی ہمارے کان بند ہونا شروع ہو جاتے ہیں، ویسے ہی ہماری قوتِ گوائی کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ ...

Space pollution. خلائی آلودگی

Image
  زمین کے بعد خلا میں آلودگی سائنس دانوں کے لیے نئی مشکل امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق زمین کے گرد گردش کرنے والی سافٹ بال کے سائز کی کم از کم 25 ہزار اشیا اور 10 کروڑ سے زائد چھوٹی چیزوں پر مبنی ملبہ موجود ہے۔ سائنس دانوں کو آج کل ستاروں پر کمند ڈالنے یعنی ان کے مشاہدے میں دقت پیش آ رہی ہے۔ اس کی وجہ بادل یا فضائی آلودگی نہیں بلکہ خلا کی آلودگی ہے۔ اس سال فروری میں ایک بے قابو سیٹلائٹ 13 سال خلا میں گزارنے کے بعد بالآخر واپس زمین یعنی بحر الکاہل میں گر گیا۔ یہ یورپی خلائی ایجنسی کا ساڑھے پانچ ہزار پاؤنڈ وزنی ای آر ایس-2 سیٹلائٹ تھا۔ لیکن یہ صرف ایک سیٹلائٹ ہے۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق زمین کے گرد گردش کرنے والی سافٹ بال کی سائز کے کم از کم 25 ہزار اشیا اور 10 کروڑ سے زائد چھوٹی چیزیوں پر مبنی ملبہ موجود ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلا میں نو ہزار میٹرک ٹن کچرا موجود ہے، جو گولی سے 10 گنا زیادہ رفتار سے سفر کر سکتا ہے اور ان کے راستے میں آنے والے ہر راکٹ اور آلات کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ ناسا سے حاصل کی گئی 12 جولائی 2022 کو مریخ پرسیورنس روور کی لی گئی اس تصو...

Man is the alien of the earth

Image
 * Man is not an earthly creature!!! American ecologist Dr. Alice Silver's dangerous research on the theory of evolution has been laid to rest: Evolutionary Scientists Unanswered: *Man is an alien of the earth.* Dr. Ellis Silver (Ellis Silver) in his book (Humans are not from Earth) I have made the alarming claim that man is not the original inhabitant of this planet earth but was created on another planet and for some reason was thrown from his original planet to his present inhabitant planet earth. Consider the words of Dr. Ellis, who is a scientist, researcher, writer and a famous American ecologist in his book. Keep in mind that these words are from a scientist who does not believe in any religion. He says that the environment in which man was created for the first time and the planet where he is living, that place was so comfortable and peaceful that it can be called VVIP, where man is very gentle. And he lived in a delicate environment, it is known from his delicate tempera...

CHATGPT 5

Image
  15 جون کو دنیا بدلے گی: ChatGPT 5 کا انقلاب 15 جون 2024 کو دنیا بدلنے والی ہے کیونکہ اس دن دنیا دیکھے گی ایک ایسا انقلاب جس نے مصنوعی ذہانت کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں ChatGPT 5 کی، جو کہ اپنے بے مثال فیچرز اور شاندار قابلیت کے ساتھ سب کو حیران کر دے گا۔ ChatGPT 5 میں ریئل ٹائم ڈیٹا انٹگریشن کی خاصیت ہے، جس کی مدد سے یہ ہمیشہ تازہ ترین معلومات فراہم کرتا ہے۔ اب آپ کو ہر بار اپ ڈیٹس کے لئے انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ، ChatGPT 5 کی ملٹی موڈل کیپبلیٹیز اسے نہ صرف ٹیکسٹ بلکہ تصاویر اور ویڈیوز کو بھی سمجھنے اور پروسیس کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں، جو ایک مکمل انٹرایکٹو تجربہ فراہم کرتا ہے۔ اس میں ایموشنل انٹیلیجنس شامل کی گئی ہے، جو صارف کی جذباتی حالت کو سمجھ کر اس کے مطابق جواب دیتی ہے، جس سے بات چیت مزید انسانی اور دلکش بن جاتی ہے۔ مختلف زبانوں میں بات کرنے کی فلوئنسی کو بھی بہتر بنایا گیا ہے، چاہے وہ اردو ہو، ہسپانوی، چینی یا کوئی اور زبان۔ ChatGPT 5 میں پرسنلائزڈ ایکسپیریئنس کا فیچر بھی شامل ہے، جو صارف کی عادات اور پسند کو سمجھ کر پرسنلائزڈ تجاو...

Man is the alien of the earth

Image
  ‏*انسان زمینی مخلوق نہیں ھے !!! امریکی ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلس سِلور کی تہلکہ خیز ریسرچ ارتقاء  (Evolution) کے نظریات کا جنازہ اٹھ گیا:  ارتقائی سائنسدان لا جواب:  *انسان زمین کا ایلین ہے ۔*  ڈاکٹر ایلیس سِلور (Ellis Silver) نے اپنی کتاب (Humans are not from Earth) میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔ ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور ایکالوجسٹ (Ecologist) ھے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجئیے۔ زھن میں رھے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذھب پر یقین نہیں رکھتا۔  اس کا کہنا ھے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق  کیا گیا اور جہاں یہ رھتا رھا ھے وہ سیارہ ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی کہا جا سکتا ھے وہاں پر انسان بہت ھی نرم و نازک ماحول میں رھتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ھوتا ھے کہ اسے...

The Future Of Space Exploration Orion

Image
  During Exploration Mission-1, Orion will venture thousands of miles beyond the Moon during an approximately three-week mission. (Image: NASA) جدید خلائی ریسرچ ان علاقوں تک پہنچ رہی ہے جن کے بارے میں صرف ایک بار خواب دیکھا تھا۔ مریخ جدید خلائی تحقیق کا مرکزی نقطہ ہے، اور انسان بردار مریخ کی تلاش کا ایک طویل مدتی ہدف ہے۔ ریاستہائے متحدہ ناسا مریخ کے سفر پر ہے، جس کا مقصد 2030 کی دہائی میں انسانوں کو سرخ سیارے پر بھیجنا ہے۔ NASA اور اس کے شراکت داروں نے سیارے کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ کرتے ہوئے مدار، لینڈرز اور روور بھیجے ہیں۔ کیوروسٹی روور نے خلابازوں کی حفاظت کے لیے تابکاری کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے، اور MARS 2020 روور آکسیجن اور دیگر مریخ کے وسائل کی دستیابی کا مطالعہ کرے گا۔

International Space Station

Image
  بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کم زمینی مدار میں ایک تحقیقی تجربہ گاہ ہے۔ اس کے ڈیزائن اور تعمیر میں بہت سے مختلف شراکت داروں کے تعاون کے ساتھ، یہ اونچی پرواز کرنے والی لیبارٹری خلائی تحقیق میں تعاون کی علامت بن گئی ہے، جس کے سابق حریف اب مل کر کام کر رہے ہیں۔ نومبر 2000 میں ایکسپیڈیشن 1 کی آمد کے بعد سے اسٹیشن پر مسلسل قبضہ کیا گیا ہے۔ اسٹیشن کی خدمت مختلف قسم کے آنے والے خلائی جہازوں کے ذریعے کی جاتی ہے: روسی سویوز اینڈ پروگریس؛ امریکی ڈریگن اور سائگنس؛ جاپانی H-II ٹرانسفر وہیکل؛ اور اس سے پہلے خلائی شٹل اور یورپی خودکار ٹرانسفر وہیکل۔ اس کا دورہ 17 مختلف ممالک کے خلابازوں، خلائی مسافروں اور خلائی سیاحوں نے کیا ہے۔ خلائی لانچ سسٹم کو لاگت کو کم کرنے اور انحصار، حفاظت اور قابل اعتماد کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ زیادہ تر امریکی فوجی اور سائنسی مصنوعی سیاروں کو مختلف مشنوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے قابل خرچ لانچ گاڑیوں کے خاندان کے ذریعے مدار میں چھوڑا جاتا ہے۔ دوسری قوموں کے اپنے لانچ سسٹم ہیں، اور تجارتی لانچ مارکیٹ میں اگلی نسل کے لانچ سسٹم تیار کرنے کے لیے سخت مقابلہ ہے۔

Space Shuttle

Image
  The Space Shuttle was the first reusable spacecraft to carry people into orbit; launch, recover, and repair satellites; conduct cutting-edge research; and help build the International Space Station. ہوم ایرو اسپیس کارپوریشن خلا کی تلاش کی ایک مختصر تاریخ بیلسٹک میزائلوں کی ترقی، جو پہلی بار جرمنی نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر استعمال کی تھی، نے لانچ گاڑیوں کے لیے راہ ہموار کی جو سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان خلائی دوڑ کو ہوا دے گی۔ خلائی دوڑ کے بعد خلائی تعاون کا دور شروع ہوا، جسے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن نے اجاگر کیا۔ راکٹ لانچنگ پہلے سے طے شدہ شخص پلیس ہولڈر۔ شیئرنگ ٹویٹر لنکڈ ان فیس بک انسانوں نے ہمیشہ رات کے آسمان کی طرف دیکھا اور خلا کے بارے میں خواب دیکھا۔ 20ویں صدی کے نصف آخر میں، ایسے راکٹ تیار کیے گئے جو مداری رفتار تک پہنچنے کے لیے کشش ثقل کی قوت پر قابو پانے کے لیے کافی طاقتور تھے، جس سے خلائی تحقیق کو حقیقت بننے کی راہ ہموار ہوئی۔ 1930 اور 1940 کی دہائیوں میں، نازی جرمنی نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے امکانات کو دیکھا۔ دوسر...

First Landing on moon

Image
  Landing on the moon: Apollo 12 launches for second moon landing Nov. 14, 1969. چاند پر لینڈنگ "ایک انسان کو چاند پر اتارنا اور اسے ایک دہائی کے اندر بحفاظت زمین پر واپس لانا" 1961 میں صدر جان ایف کینیڈی کا ایک قومی ہدف تھا۔ 20 جولائی 1969 کو، خلاباز نیل آرمسٹرانگ نے "انسانیت کے لیے ایک بڑی چھلانگ" لگائی۔ چاند پر قدم رکھا۔ 1969 اور 1972 کے درمیان چاند کی تلاش کے لیے چھ اپالو مشن بنائے گئے۔ 1960 کی دہائی کے دوران، بغیر پائلٹ کے خلائی جہاز نے خلابازوں کے اترنے سے پہلے چاند کی تصویر کھینچی اور اس کی جانچ کی۔ 1970 کی دہائی کے اوائل تک، گردش کرنے والے مواصلاتی اور نیویگیشن سیٹلائٹ روزمرہ کے استعمال میں تھے، اور میرینر خلائی جہاز مریخ کی سطح کے گرد چکر لگا رہا تھا اور نقشہ بنا رہا تھا۔ دہائی کے آخر تک، وائجر خلائی جہاز نے مشتری اور زحل، ان کے حلقوں اور ان کے چاندوں کی تفصیلی تصاویر واپس بھیج دی تھیں۔ اسکائی لیب، امریکہ کا پہلا خلائی اسٹیشن، 1970 کی دہائی کی انسانی خلائی پرواز کی خاص بات تھی، جیسا کہ اپولو سویوز ٹیسٹ پروجیکٹ تھا، جو دنیا کا پہلا بین الاقوامی سطح پر عملہ (...

A BRIEF HISTORY OF SPACE EXPLORATION

Image
 انسانوں نے ہمیشہ رات کے آسمان کی طرف دیکھا اور خلا کے بارے میں خواب دیکھا۔ 20ویں صدی کے نصف آخر میں، ایسے راکٹ تیار کیے گئے جو مداری رفتار تک پہنچنے کے لیے کشش ثقل کی قوت پر قابو پانے کے لیے کافی طاقتور تھے، جس سے خلائی تحقیق کو حقیقت بننے کی راہ ہموار ہوئی۔ 1930 اور 1940 کی دہائیوں میں، نازی جرمنی نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے امکانات کو دیکھا۔ دوسری جنگ عظیم کے آخر میں، لندن پر 200 میل رینج کے V-2 میزائلوں سے حملہ کیا گیا، جو انگلش چینل پر 3,500 میل فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے 60 میل اونچی محراب میں تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ اور سوویت یونین نے اپنے اپنے میزائل پروگرام بنائے۔ 4 اکتوبر 1957 کو سوویت یونین نے پہلا مصنوعی سیارہ سپوتنک 1 خلا میں چھوڑا۔ چار سال بعد 12 اپریل 1961 کو، روسی لیفٹیننٹ یوری گاگارین ووسٹوک 1 میں زمین کا چکر لگانے والے پہلے انسان بن گئے۔ ان کی پرواز 108 منٹ تک جاری رہی، اور گاگارین 327 کلومیٹر (تقریباً 202 میل) کی بلندی پر پہنچ گئے۔ پہلا امریکی سیٹلائٹ، ایکسپلورر 1، 31 جنوری 1958 کو مدار میں گیا۔ 1961 میں، ...