Posts

Importance of oxygen

Image
اگر زمین سے پانچ سیکنڈز کیلئے۔۔۔۔! جی ہاں محض پانچ سیکنڈز کیلئے آکسیجن غائب ہوجائے تو کیا ہوگا۔۔۔؟ انسان ایک منٹ کے لئے تو سانس روک ہی سکتا ہے، لیکن یہاں بات صرف ایک انسان کی نہیں ہو رہی، پوری زمین کی ہو رہی ہے۔ پوری زمین سے محض پانچ سیکنڈز کیلئے آکسیجن غائب ہو جائے تو۔۔۔۔! 1۔ ساحل سمندر پر لیٹے لوگوں کی جلد فوراً جھلسنا شروع ہو جائے گی، کیونکہ ہوا میں موجود مالیکیولر آکسیجن ہی ہمیں الٹرا وائلٹ روشنی سے بچاتی ہے۔ 2۔ دن کے وقت آسمان کالا سیاہ ہو جائے گا، اندھیرا ہو جائے گا، کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ 3۔ دھات سے بنی ہوئی وہ تمام چیزیں جو الگ الگ ہیں، فوراً سے پہلے ایک دوسرے سے جڑنا شروع ہو جائینگی۔ کیونکہ ہوا میں موجود آکسیڈیشن کی تہہ ہی انہیں آپس میں جڑنے سے روکتی ہے۔ 4۔ زمین کا پینتالیس فیصد حصہ آکسیجن سے بنا ہوا ہے، جیسے ہی آکسیجن غائب ہوگی، ساری زمین کھردری اور اُتھل پُتھل ہو جائے گی۔ اور اس پر چلنا اور قدم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ 5۔ ہم ہوا کا اکیس فیصد دباؤ کھو دینگے، لہٰذا جس طرح جہاز کے اُڑتے ہی ہمارے کان بند ہونا شروع ہو جاتے ہیں، ویسے ہی ہماری قوتِ گوائی کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ ...

Space pollution. خلائی آلودگی

Image
  زمین کے بعد خلا میں آلودگی سائنس دانوں کے لیے نئی مشکل امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق زمین کے گرد گردش کرنے والی سافٹ بال کے سائز کی کم از کم 25 ہزار اشیا اور 10 کروڑ سے زائد چھوٹی چیزوں پر مبنی ملبہ موجود ہے۔ سائنس دانوں کو آج کل ستاروں پر کمند ڈالنے یعنی ان کے مشاہدے میں دقت پیش آ رہی ہے۔ اس کی وجہ بادل یا فضائی آلودگی نہیں بلکہ خلا کی آلودگی ہے۔ اس سال فروری میں ایک بے قابو سیٹلائٹ 13 سال خلا میں گزارنے کے بعد بالآخر واپس زمین یعنی بحر الکاہل میں گر گیا۔ یہ یورپی خلائی ایجنسی کا ساڑھے پانچ ہزار پاؤنڈ وزنی ای آر ایس-2 سیٹلائٹ تھا۔ لیکن یہ صرف ایک سیٹلائٹ ہے۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق زمین کے گرد گردش کرنے والی سافٹ بال کی سائز کے کم از کم 25 ہزار اشیا اور 10 کروڑ سے زائد چھوٹی چیزیوں پر مبنی ملبہ موجود ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلا میں نو ہزار میٹرک ٹن کچرا موجود ہے، جو گولی سے 10 گنا زیادہ رفتار سے سفر کر سکتا ہے اور ان کے راستے میں آنے والے ہر راکٹ اور آلات کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ ناسا سے حاصل کی گئی 12 جولائی 2022 کو مریخ پرسیورنس روور کی لی گئی اس تصو...

Man is the alien of the earth

Image
 * Man is not an earthly creature!!! American ecologist Dr. Alice Silver's dangerous research on the theory of evolution has been laid to rest: Evolutionary Scientists Unanswered: *Man is an alien of the earth.* Dr. Ellis Silver (Ellis Silver) in his book (Humans are not from Earth) I have made the alarming claim that man is not the original inhabitant of this planet earth but was created on another planet and for some reason was thrown from his original planet to his present inhabitant planet earth. Consider the words of Dr. Ellis, who is a scientist, researcher, writer and a famous American ecologist in his book. Keep in mind that these words are from a scientist who does not believe in any religion. He says that the environment in which man was created for the first time and the planet where he is living, that place was so comfortable and peaceful that it can be called VVIP, where man is very gentle. And he lived in a delicate environment, it is known from his delicate tempera...

CHATGPT 5

Image
  15 جون کو دنیا بدلے گی: ChatGPT 5 کا انقلاب 15 جون 2024 کو دنیا بدلنے والی ہے کیونکہ اس دن دنیا دیکھے گی ایک ایسا انقلاب جس نے مصنوعی ذہانت کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں ChatGPT 5 کی، جو کہ اپنے بے مثال فیچرز اور شاندار قابلیت کے ساتھ سب کو حیران کر دے گا۔ ChatGPT 5 میں ریئل ٹائم ڈیٹا انٹگریشن کی خاصیت ہے، جس کی مدد سے یہ ہمیشہ تازہ ترین معلومات فراہم کرتا ہے۔ اب آپ کو ہر بار اپ ڈیٹس کے لئے انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ، ChatGPT 5 کی ملٹی موڈل کیپبلیٹیز اسے نہ صرف ٹیکسٹ بلکہ تصاویر اور ویڈیوز کو بھی سمجھنے اور پروسیس کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں، جو ایک مکمل انٹرایکٹو تجربہ فراہم کرتا ہے۔ اس میں ایموشنل انٹیلیجنس شامل کی گئی ہے، جو صارف کی جذباتی حالت کو سمجھ کر اس کے مطابق جواب دیتی ہے، جس سے بات چیت مزید انسانی اور دلکش بن جاتی ہے۔ مختلف زبانوں میں بات کرنے کی فلوئنسی کو بھی بہتر بنایا گیا ہے، چاہے وہ اردو ہو، ہسپانوی، چینی یا کوئی اور زبان۔ ChatGPT 5 میں پرسنلائزڈ ایکسپیریئنس کا فیچر بھی شامل ہے، جو صارف کی عادات اور پسند کو سمجھ کر پرسنلائزڈ تجاو...

Man is the alien of the earth

Image
  ‏*انسان زمینی مخلوق نہیں ھے !!! امریکی ایکولوجسٹ ڈاکٹر ایلس سِلور کی تہلکہ خیز ریسرچ ارتقاء  (Evolution) کے نظریات کا جنازہ اٹھ گیا:  ارتقائی سائنسدان لا جواب:  *انسان زمین کا ایلین ہے ۔*  ڈاکٹر ایلیس سِلور (Ellis Silver) نے اپنی کتاب (Humans are not from Earth) میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔ ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکہ کا نامور ایکالوجسٹ (Ecologist) ھے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غور کیجئیے۔ زھن میں رھے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذھب پر یقین نہیں رکھتا۔  اس کا کہنا ھے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق  کیا گیا اور جہاں یہ رھتا رھا ھے وہ سیارہ ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی کہا جا سکتا ھے وہاں پر انسان بہت ھی نرم و نازک ماحول میں رھتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ھوتا ھے کہ اسے...

The Future Of Space Exploration Orion

Image
  During Exploration Mission-1, Orion will venture thousands of miles beyond the Moon during an approximately three-week mission. (Image: NASA) جدید خلائی ریسرچ ان علاقوں تک پہنچ رہی ہے جن کے بارے میں صرف ایک بار خواب دیکھا تھا۔ مریخ جدید خلائی تحقیق کا مرکزی نقطہ ہے، اور انسان بردار مریخ کی تلاش کا ایک طویل مدتی ہدف ہے۔ ریاستہائے متحدہ ناسا مریخ کے سفر پر ہے، جس کا مقصد 2030 کی دہائی میں انسانوں کو سرخ سیارے پر بھیجنا ہے۔ NASA اور اس کے شراکت داروں نے سیارے کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ کرتے ہوئے مدار، لینڈرز اور روور بھیجے ہیں۔ کیوروسٹی روور نے خلابازوں کی حفاظت کے لیے تابکاری کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے، اور MARS 2020 روور آکسیجن اور دیگر مریخ کے وسائل کی دستیابی کا مطالعہ کرے گا۔

International Space Station

Image
  بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کم زمینی مدار میں ایک تحقیقی تجربہ گاہ ہے۔ اس کے ڈیزائن اور تعمیر میں بہت سے مختلف شراکت داروں کے تعاون کے ساتھ، یہ اونچی پرواز کرنے والی لیبارٹری خلائی تحقیق میں تعاون کی علامت بن گئی ہے، جس کے سابق حریف اب مل کر کام کر رہے ہیں۔ نومبر 2000 میں ایکسپیڈیشن 1 کی آمد کے بعد سے اسٹیشن پر مسلسل قبضہ کیا گیا ہے۔ اسٹیشن کی خدمت مختلف قسم کے آنے والے خلائی جہازوں کے ذریعے کی جاتی ہے: روسی سویوز اینڈ پروگریس؛ امریکی ڈریگن اور سائگنس؛ جاپانی H-II ٹرانسفر وہیکل؛ اور اس سے پہلے خلائی شٹل اور یورپی خودکار ٹرانسفر وہیکل۔ اس کا دورہ 17 مختلف ممالک کے خلابازوں، خلائی مسافروں اور خلائی سیاحوں نے کیا ہے۔ خلائی لانچ سسٹم کو لاگت کو کم کرنے اور انحصار، حفاظت اور قابل اعتماد کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ زیادہ تر امریکی فوجی اور سائنسی مصنوعی سیاروں کو مختلف مشنوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے قابل خرچ لانچ گاڑیوں کے خاندان کے ذریعے مدار میں چھوڑا جاتا ہے۔ دوسری قوموں کے اپنے لانچ سسٹم ہیں، اور تجارتی لانچ مارکیٹ میں اگلی نسل کے لانچ سسٹم تیار کرنے کے لیے سخت مقابلہ ہے۔